Pages

Tuesday, March 15, 2011

حضور ﷺ کا حسن و جمال
حسن یوسف ،دم عیسی ٰ ،ید بیضاء داری ۔۔۔۔آنچہ خوباں ہمہ دارند توتنہاداری
آپ ﷺ جہاں حسن سیر ت اور عمدہ تعلیمات کے مالک تھے وہیں آپ ﷺ کاحسن ظاہری بھی کمال درجہ کاتھا۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے جناب نبی کریم ﷺ کے حسن کو ان الفاظ میں بیان کیاہے
احسن منک لم ترقط عینی ۔واجمل منک لم تلد النساء۔خلقت مبرأ من کل عیب۔کانک قد خلقتک کما تشاء
ترجمہ؛آپ ﷺ سے حسین میری آنکھوں نے دیکھا نہیں ۔اور آپ ﷺسے خوبصورت کسی ماں نے جنانہیں
       آپ ﷺ کو ہرعیب سے پاک پیداکیاگیا ۔گویا کہ آپ ﷺ کو آپ کی مرضی کے مطابق پیدا کیاگیا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ کاحسن حضرت یوسف سے زیادہ تھا۔حضرت یوسف ؑ کو دیکھ کرعورتوں نے ہاتھ کٹوائے تھے ،جب کہ آپ ﷺ کودیکھ کرمردوں نے گردنیں کٹوادیں۔"
جس کو ایک شاعر یوں بیان کرتاہے۔
حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں ۔۔۔۔سرکٹاتے ہیں تیرے نام پرمردان عرب
حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں ؛
امین مصطفی للخیر یدعو۔۔۔ کضوء البدر زایلتہ الغمام
آپ ﷺ امین مصطفی اور خیر کی طرف بلانے والے ہیں۔ آپ ﷺ چاند کی روشنی ہیں جو بادلوں سے باہرہو۔
حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے اس انداز میں بیان فرمایا
لولم تکن فیہ آیات بینہ ۔۔۔۔۔لکان منظرہ ینبیک بالخبر
اگرآپ ﷺ کے دیگر معجزات نہ بھی ہوتے توبھی آپ ﷺ کا حسن وجمال ہی آپ کے نبی ہونے کی دلیل تھا۔
ایک صحابی ؓ نے چاندنی رات میں آپ ﷺ اور چاند کامقابلہ کیااور پھر آپ کے حسن پربے اختیار گویاہوا جس کاایک شاعرنے اردو میں ترجمہ کیا
چاند سے تشبیہ دوں یہ بھی کوئی انصاف ہے۔۔۔۔چاند پرجہریاں ہیں اور میرے مدنی کاچہرہ صاف ہے
ایک اور شاعر نے اس کاپنجابی میں یوں ترجمہ کیا ہے
روایت کریندا اے جابرسہارا۔۔۔چندوں چودھویں سی تے کوئی کوئی تارا
میں دوہاں نوں دیکھاں دوبارادوبارا۔۔۔خدادی قسم چندمدہم ڈسایا،محمدﷺ دا چہراسونا نظرآیا
شیخ سعدی جواگرچہ بہت بعد کے ہیں مگرآپ ﷺ کے حالات دیکھ کرکہتےہیں
بلغ العلی بکمالہ ۔۔۔کشف الدجی بجمالہ۔۔۔۔حسنت جمیع خصالہ ۔۔۔۔صلوا علیہ وآلہ




آپ ﷺ رحمت للعالمین ومحسن کائنات
حضورﷺ آئے تو سرِّ   آفرینش پاگئی دنیا۔ اندھیروں سے نکل کر اجالوں میں آگئی دنیا
بجھے چہروں سے زنگ اتراستے چہروں پہ نور آیا ۔ حضور آئے تو لوگوں کو جینے کاسرور آیا
جناب نبیٔ  کریمﷺ دونوں جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجے گئے ، آپﷺ جہاں عربوں کے لئےرحمتیں اورنعمتیں ،علم وہنرلے کرآئے ویسے ہی عجموں کے لئےبھی سراپارحمت تھے،جہاں مسلمانوں کے لئے رحمت تھے وہیں کا فر بھی آپ کے فیوض سے فیض یاب ہوئے۔ انسانوں کے حقوق ، عورتوں کے حقوق ، جانوروں کے حقوق، غرض ہر جاندار کے حقوق آپ ﷺ نے متعارف کروائے۔
 آپ ﷺ کی آمد سے پہلے دنیا کی حالت کیاتھی ؟ پوری دنیا میں جنگل کا قانون نافذ تھا ، ہر طاقتور کمزور کو کھارہاتھا۔ایک طرف سندھ میں منوشاستر نافذاور برھمن راج قائم تھا اور یہاں کے بدھ مت مذہب کے لوگوں کو زبردستی ہندو بنایاجارہاتھا، تو دوسری طرف روم میں یہودیوں کا کشت وخون ہورہاتھا۔ایک طرف عرب عورتوں کو پیداہوتے ہی غیرت کے نام پرزندہ دفنادیتے تھے تو دوسری طر ف ایران میں ماں بہن کی کوئی تمییز نہ تھی۔ ایک طرف مزدک نے تمام عورتوں اور مال کو مباح اور ہر ایک کے لئے قابل ِاستعمال قرار دیاتھا کہ جس کو جو عورت جو مال جہاں ملے لے سکتاہے،جبکہ دوسری طرف رہبانیت رائج تھی جہاں عورت اور مال کا تصور بھی گناہ تھا۔ایک طرف مالداری کایہ عالم تھاکہ شادیوں پر بیسیوں قسم کے کھانے اور اسراف تودوسری طرف غریب جماہوا خون اور مردار جانور کھانے پرمجبور تھے۔ غرض پوری دنیاافراط وتفریط میں مبتلاتھی ۔ ایسے زمانے میں آپ ﷺ مبعوث ہوئے۔
 جس معاشرے میں آپ نے آنکھ کھولی وہاں سب برائیاں اپنے کمال وعروج پر تھیں،امرؤالقیس  افصح العرب کہلانے والے شخص کا معاشقے پرمشتمل قصید ہ خانہ خدا کی دیواروں پرلگاہواتھا۔ایک زرا سی بات پر برسوں لڑائیاں جاری رہتی تھیں۔بچی کوپیداہوتےہی زندہ دفن کردیا جاتاتھا، شراب نوشی ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔جہالت اتنی عام تھی کہ کوئی ان پر حکومت کرنے کو تیارنہ تھا، اور ان کومتفقہ طورپر امی کالقب دیاگیاتھایعنی ان پڑھ۔مگرآپ ﷺنے صرف چالیس سال کے عرصے میں ان کی ایسی تربیت کی ، ان میں ایسا کمال پیداکردیا کہ وہ ان پڑھ اور امی لوگوں دوسروں کو علم وحکمت پڑھانے لگے ۔جن پر کوئی حکومت کرنے کو تیارنہیں تھاوہ پوری دنیا کے حکمران بن گئے۔ بڑے سے بڑا متعصب مؤرخ بھی جو کہ آپ ﷺ کے تمام فضائل کو عیوب بنا کرپیش کرتےہیں،اس نکتہ پر آکرحیران رہ گیا کہ ایک امی شخص جس نے کسی مدرسے میں تعلیم نہیں حاصل کی کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذنہیں بچھائے ،وہ ایسی جاہل قوم کو اس مقام پر کیسے لے آیاکہ قیصروکسری ٰ اس سے ڈرنے لگے۔اور ایک وقت آیا کہ ان بوریا نشینوں نے اس وقت کی موجود دنیا کے دو ثلث  حصے پر اسلامی سلطنت کے جھنڈے گاڑ دئیے۔
تذکرۂ احسانات  آنجناب ﷺبر جمیع انسانیت
عورتوں پراحسان
عرب ہویاعجم ، ایشیاء ہو یا یورپ کہیں بھی عورت کو سامان Things سے زیادہ وقعت حاصل نہیں تھی، بلکہ یورپ میں عورت کے ساتھ ظلم وستم ایشیاء سے زیادہ تھا، شوہر نامدار کا جب ایک بیگم سے دل بھر جاتاتو وہ اسے بازار میں جاکر نیلام کردیتا،اور کوئی دوسری خرید کرلے آتا۔عورت کو میراث دینے کاتصور ہی نہیں تھا۔
عورت کو عزت کامقام اسلام نے دیا،آپ ﷺ کی تعلیمات نے دیا۔آپ ﷺ نے عورت کواگرماں کی شکل میں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت بتائی،اگربیٹی کی صور ت میں ہے اس کی صحیح تربیت کو جنت کا ذریعہ بتایا،اگر بہن کی صور ت میں ہے تو اس کااحترام سکھلایا، اور اگر بیوی کی صور ت میں ہے اس سے دل لگی کوباعث اجر بتایا۔اور اگراجنبی  ہے تواس کے احترام میں اپنی آنکھیں نیچی کرلینے کا سبق دیا۔ میراث میں سے عورت کا حصہ مقرر کیا،اور اسے گھر کاحکمران بنایااور مرد کے ذمے لگایاکہ وہ اس کے معاش کاہرطرح کاانتظام کرے ، اگر عورت بے بیاہی ہے تو اس کاباپ ، اور اس کابھائی اس کے لئے معاش کا بندوبست کرنے کے ذمے دار ہیں، اور اگر بیاہی ہے تواس کے شوہراور اس کابیٹا اس کی کفالت کے ذمے دار ہیں۔اگر یہ لوگ نہ ہوں تو دوسرے رشتہ دار مرد اولیاء چچا،تائے ، ماموں وغیرہ ان کی کی کفالت کے ذمے دارہیں۔آج مغرب کامردآزادی کے نام پرعورت کوبیوقوف بناکراس کوآسان شکار بناناچاہتاہے۔تاکہ اپنی جنسی خواہش کی تسکین بھی آسانی سے کرسکے ،اورعورت  خوداس کو کماکرکھلائے۔ عورت کوجوحقوق اسلام نے دئیے وہ نہ اسلام سے پہلے کسی نے دئیے نہ اسلام کے آنے کے بعد کسی نے دئیے ، یورپ میں کئی ممالک میں عورت کو ووٹ ڈالنے کاحق 2000ء کے بعد ملے ہیں۔
جنگی قیدیوں پر احسان
جنگ میں توانسانیت کا تصور کہیں بھی نہیں تھاآج کی دنیاکی مہذب قوم کہلانے والے امریکہ نے گوانتاناموبے میں عام آدمیوں کوجن کو شک کی بنیاد پر قید کیاان کوجواذیتیں دی وہ ساری دنیا کے سامنے ہیں، اسلام نے جنگ میں انسانیت کالحاظ رکھااور جنگ میں عورتوں ،بچوں اور بوڑھوں کوقتل کرنے سے منع کیا،ناک کان کاٹنے سے منع کیا ۔قتل میں اذیت دینے سے منع کیا۔ اور جوجنگی قیدی جس مسلمان کے حصے میں آتا اسے اس کے ساتھ اپنے بھائیوں والے سلوک کا حکم دیا کہ جو تم کھاؤ وہ ان کو کھلاؤجو تم پہنووہ ان کو پہناؤاور اگر آزاد کردو تو اس کے ہر عضو کے بدلے تمہارے جسم کا ہرعضو جہنم سے آزاد ہونے کا وعدہ فرمایا۔
البتہ عام مجرم کے لئے اسلام نے سخت سزائیں نافذکیں جس کے نتیجہ میں جرم کا تناسب معدوم ہوجاتاہے۔ اور ان سزاؤں میں مالدار ،غریب صدر یاچوکیدار کاکوئی فرق نہیں۔ امارت ِاسلامیہ افغانستان میں شرعی سزاؤں کا نتیجہ پوری دنیا نے دیکھا کہ شارع عام میں پڑا قیمتی سے قیمتی مال بھی مالک کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اٹھانے کی جرأت نہیں کرسکتاتھا۔اب بھی سعودی عرب میں کسی درجے میں شرعی سزائیں نافذہیں تو وہاں کا جرم کاتناسب پوری  دنیا کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔جبکہ یورپ میں مجرم کے ساتھ نرمی کی وجہ سے جرم کا تناسب بڑھا ہواہے۔ اور عام آدمی اپنا صحیح بدلہ لینے کے لئے خود مجرم بن جاتاہے۔
عصبیت ختم کرنے کا احسان
قومی ،نسلی اور رنگ کافخروتعصب جس کازمانۂ جاہلیت اولی میں بھی دوردورا تھااور آج بھی اسی طرح قائم ہے ، جس کی وجہ سے  کالوں کوگورے انسان نہیں سمجھتے تھے بلکہ  ساماں اور Things قرار دیتے تھے انہیں امریکہ میں باقاعدہ انسان عدالت نے 1960ء میں کالوں کی طویل جدوجہد کےبعد مانا،اس سے پہلے ان کو انسانی حقوق حاصل نہیں تھے ، آج بھی گوروں کی ایک بڑی تعداد کالوں سے نفرت کرتی ہے۔ قومی تعصب کی ماضی کی مثالیں تو چھوڑیں دور حاضر کی متمدن قوموں،جرمن ،انگریزاور  امریکیوں  کی سب  کے سامنے ہیں ۔اگر ایک امریکی پوری دنیا میں کہیں مرجائے یا زخمی ہوجائے تو پوری دنیا میں آسمان سر پر اٹھالیاجاتاہے ،جبکہ ڈروں حملوں میں روزانہ سینکڑوں ،ہزاروں پاکستانی عراقی اور افغان شہید ہوجائیں تو بھی کوئی آواز اٹھانے والانہیں بلکہ اگر کو ئی آواز اٹھالے تو وہ دہشتگرد قرار پائے۔
آپ ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے نسلی اور رنگ کے تعصب کا قلع قمع کردیاتھا۔آپ ﷺ نے فرمایاکسی عربی کوعجمی پرکسی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت نہیں ،یعنی انصاف سب کے لئے برابرہے اگر کوئی بادشاہ کسی غریب کو تھپڑ مارے تو اسلامی حکومت اس غریب کو بادشاہ سے بدلہ دلواتی ، نہ کسی کوصدارتی استثناء نہ کوئی اور ۔۔ اسلامی تاریخ بھری ہوئی ہے ایسے واقعات سے کہ عدالت میں بادشاہ کو کٹہرے میں کھڑا ہوناپڑا اور ثابت ہوجانے پر اس کے خلاف فیصلہ ہوا۔
معاشی تعلیمات کااحسان
 معاشی مسائل آ ج کی دنیا کاسب سے بڑا مسئلہ ہیں ، تمام ملکوں کی حکومتیں اپنی عوام سے غریب اور امیر کے درمیان معاشی فرق ختم کرنے کےوعدے کرتی ہیں۔تمام دنیا کا یہ شکوہ ہے کہ مال سمٹ کر چند ہاتھوں میں آتاجارہاہےمگر ایسا نظام سوائے اسلام کے کسی کے پاس نہیں کہ جس سے امیر وغریب کے فاصلے بھی کم ہوں اور ہرکسی کو اس کی محنت کابدلہ بھی ملے۔ اسلام نے معاشی تقسیم میں ایسے اصول رکھے جس کےوجہ سے مال کے چندہاتھوں میں سمٹ کرآنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتاان میں سے ایک میراث کی تقسیم ہے۔دیگرمذاہب اور اقوام میں وراثت اکبر کا قانون رائج ہے یعنی سارے مال کا وارث  بڑا بیٹا بنتاہے۔اس لئے جاگیرداریاں قائم رہتی ہیں۔اسلام کے میراث کے قانون کی وجہ سے کوئی جاگیر  بھی زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتی اولاد میں نہیں تو پوتوں تک پہنچتے بڑی سےبڑی میراث چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔دوسرانظام زکوۃ وصدقات کاہے، جس میں محنت ومسشقت کے حساب سے فرق آتاہے  ایک عام  مالداراپنے مال کاچالیسواں  حصہ غریب عوام میں تقسیم کرتاہےجب کہ زمیندارپیداوار کادسواں (اگربارانی پانی ہوتو)یابیسواں حصہ(اگرنہری پانی ہو) غریب عوام کودیتاہے۔ اور اگر کسی کی زمیں سے کوئی خزانہ یا تیل یاگیس وغیرہ کو ئی چیز نکلے یا کوئی خزانہ  پائے تو اس کا پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانے کا پابند ہے۔جو کہ عوام کی ضروریات میں خرچ ہوگا۔اور بے جاقسم کے ٹیکسوں کا اسلام  میں کوئی تصور نہیں۔
معاشرت اور معاملات  سکھانے کااحسان
گھریلوتعلقات ، علاقائی تعلقات ،عالمی تعلقات جو آج "سیاسیاتPolitics، اور شہریتSivics،کے عنوان سے علیحدہ علوم بن گئے ہیں۔اور تمام ماہرین جن مسائل میں پریشان ہیں ۔اسلام نے انتہائی منصفانہ او ربہترین ایسے حل پیش کئے  جس سے معاشرے کے تمام مسائل کاحل ہوجاتاہے اور کوئی جھگڑا اور الجھن باقی نہیں رہتی جن کواسلامی اصطلاح میں معاملات معاشرت اور اخلاقِ باطنہ سے تعبیرکیاجاتاہے۔جسکا حاصل آپ ﷺ کی اس بات میں ہیں کہ کامل مسلمان وہ ہے جو اپنے قول وفعل سے کسی دوسرے کو کوئی تکلیف نہ دے۔ خوش اخلاقی سے ملنا نیکی ہے۔اسلام نے پڑوسی کے اتنے حقوق بیان کئے گویا وہی گھر والاہے۔اور بالکل دقیق سے دقیق پریشانی دینے کو بھی ناجائز قرار دیا۔معاملات میں کسی ادنی سی جہالت جومفضی الی النزاع ہوکو مفسدِعقد قرار دیا ، سود کوحرام قرار دیا۔اور سچائی اور دیانت داری کی تعلیم دی ۔ اپنی چیز کاعیب بیان کرنے کاحکم دیا ،ہر طرح کی دھوکہ دہی کوحرام قرار دیا۔
 غرض آپ ﷺ ساری دنیا کے لئے رحمت بن کر آئے اور آپ صرف اپنے زمانے ہی کے لئے نہیں بلکہ رہتی دنیا کے لئے شعور وآگہی کے پیشوا اور رحمت ہیں۔یورپ ترقی تب شروع ہوئی جب انہوں نے مسلمانوں کی اسپین کی لائبریریاں غصب کیں۔اور آج حقوق کے جونعرے لگ رہے ہیں وہ اسلامی تعلیمات سے مرعوب ہوکر لگ رہے ہیں،اگرچہ اسلام سے تعصب کی وجہ سے اپنی نکمی عقل سے اس میں تحریف کرلی تاکہ کہیں اسلام کی عظمت کو تسلیم نہ کرناپڑجائے جس کے نتیجے میں وہ حقوق کی بجائے مصیبت بن گئے اور ان میں غیرہمواری پیداہوگئی۔
افسوس تو اس پر ہے کہ آج مسلمان آپ ﷺ کی تعلیمات کو چھوڑ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ذلت وخواری میں مبتلاہیں۔اللہ ہمیں آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق زندگی ڈھالنے کی توفیق دے۔
اسلام اور آپ ﷺرہتی دنیا کے لئے رحمت اور آپ کی ہستی پوری دنیا کی محسن ہے خواہ کو ئی مانے یا تعصب کی وجہ سے آنکھیں بند کرکے کہے کہ مجھے سورج نظر نہیں آرہا۔

No comments:

Post a Comment